بھٹکل:20/فروری (ایس او نیوز) شیموگہ ، سرسی وغیرہ مقامات پر حالیہ دنوں میں برقعہ پوش طالبات کے تعلیمی ادارو ں میں داخلے کو لے کر سنگھ پریوار کی طلبا تنظیم کے کارکنان کی شر انگیزی سے شہ پاتے ہوئے اب بھٹکل میں بھی برقعہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جب پتہ چلا کہ بھٹکل کے سرکاری ڈگری کالج میں کوئی بھی برقعہ پوش طالبات نہیں ہیں تو برقعہ پوش خواتین لکچرر کے خلاف ہی کالج کے کچھ طلبا بھگواشال پہن کر کالج پہنچ گئے اور احتجاج کرنے لگے۔ یہ واقعہ پیر کی شام کو پیش آیا ہے۔
کالج میں بھگواشال پہن کر دوسروں کو اپنی طرف راغب کرنے اور احتجاج کرنے والے طلبا کو دیکھیں تو صاف ظاہر ہوتاہے کہ ریاست کے دیگر مقامات پر ہوئے حالیہ واقعات سے شہ پاکر ان لوگوں نے یہ کارستانی کی ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق احتجاج کرنے والے طلبا میں زیادہ تر فائنل میں زیر تعلیم لڑکے ہیں۔ معاملے کی اطلاع پاتے ہوئے کالج پہنچی پولس نے حالات کا جائزہ لیا۔ کالج کی ایک مسلم لکچرر نے کالج میں ہوئے اچانک ہنگامے کے متعلق کہا کہ ہم لوگ گھر سے برقعہ پہن کر کالج آتےہیں، لیکن جب کلاس روم میں تعلیم کا درس ہوتاہے تو برقعہ نہیں پہنتے ۔ لیکن اب اچانک کالج طلبا کے رویے سے ہمیں خوف محسوس ہورہا ہے۔ خواتین لیکچرر نے کہاکہ ہمارا مذہب ہمیں برقعہ پہننے کاحکم دیتاہےہم پہن کر آتے ہیں،اور سرکاری سطح پر بھی ڈریس کوڈ کو لے کر کوئی حکم نہیں ہے ۔
اس سلسلے میں کالج پرنسپال ڈاکٹر بھاگیرتھی نے بتایا کہ مدرسین یعنی لکچرر حضرات کے لئے کوئی یونیفارم یا ڈریس کوڈ نہیں ہے ،محکمہ تعلیمات نے اس سلسلے میں اپنی وضاحت پیش کرچکاہے۔ جہاں تک کالج میں طلبا کا بھگوا شال پہننے کا مسئلہ ہے ہم کالج انتظامیہ کےسامنے پیش کریں گے۔
خیال رہے کہ اترکینرا کے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے جو مسلم مخالف بیان دینے کے بعد کافی بدنام ہیںنے حال ہی میں برقعہ کے خلاف بھگوا شال پہننے والوں کی حمایت میں بیان جاری کیا تھا۔اب تازہ واقعے میں مسلم لیکچرار کو برقعہ پہن کر کالج نہ پہنچنے کا مطالبہ کرنے کو لے کر عوامی سطح پر اس معاملے کو لےکر کافی تشویش ظاہر کی جارہی ہے، عوام سوال کررہے ہیں کہ طلبا کالجس میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں یا سیاسی پارٹیوں کے ایجنٹ بننے کے لئےداخلہ لیتے ہیں۔